صفحہء اول فرقے اور اسلامی مذاہب ايران (افكار وعزائم)
6.71 MB
Dewey
297/5/1561
ايران (افكار وعزائم) کتاب کا نام:
نذیر احمد مصنف:
تالیف مترجم:
۴۲۵ ڈاؤن لوڈز: ۶۱۱۹ مشاہدات:
Tuesday، 18 December 2012 تاریخ شمولیت:
Tuesday، 18 December 2012 آخرى اپ ڈيٹ:
۱۳۴ صفحات: ۱۷x۲۴ وزیری كتاب كا سائز:
Urdu اصل زبان:
Source:
سوشل نیٹ ورکس کو ارسال کریں
برچسب‌های این کتاب
keywords of this book

 پڑوسى ملك ايران جو كه شيعه اكثريت ملك هے ، كتاب ھذا كے مؤلف كو ايران ميں 13 سال سے زياده (1958ء سے 1966ء تك اور 1974ء سے 1979ء تك) گورنمنٹ آف پاكستان كے طرف ملازمت كے دوران قيام كا موقع ملا اور ايك پاكستانى كى حيثيت سے ايرانيوں كا بغور مطالعه كيا اور پڑوسى ملكوں خصوصاً پاكستان كے ساتھ ان كے رويے كو بهتر طور پر جان سكوں ۔ شاه كے عروج زوال اور خمينى انقلاب كا مصنف نے ذاتى طور پر مشاهده كيا۔ زير نظر كتاب ميں مؤلف نے اپنى قوم كى آگهى كے لئے ايران كے اپنے همسايه مسلم ممالك كٍے ساتھ تعلقات ، عزائم اور طريق كار ، خصوصا پاكستان اور پاكستانى تشخص كو ختم كرنے كےلئے ايران كيا كوششيں كر رها هے اور پاكستان ميں اعلى عهدوں پر اور ديگر حكومتى مناصب اور فوج ، پوليس اور ديگر دفاعى محكموں ميں وه كس تيزى اور حكمت عملى كے ساتھ اپنے لوگوں كو آگے لا رهے هيں نيز شيعوں نے كس طرح درجنوں مسلح تنظيميں بنائى هيں اور امام بارگاهوں ميں اور دوسرى خفيه جگهوں پر اسلحه اور هتھيار جمع كئے جارهے هيں ۔ نيز ايران كےهندوستان ، افغانستان اور ديگر ممالك كے ساتھ تعلقات اور خارجه پاليسى كيا هے۔

  • فى الوقت اس كتاب كى فهرست دستياب نهيں هے.
اس كتاب كے بارے ميں كوئى نوٹ نهيں هے
  • يه كتاب فى الوقت ديگر زبانوں ميں دستياب نهيں هے.
اس کتاب کے بارے میں آپکى رائے

آپ کا نام :

براہ مہربانی اپنا نام یا لقب لکھيں اپنے نام کے لئے ایک لفظ درج کریں اپنا نام کے لئے 60 حروف تک استعمال کر سکتے ہیں

ای میل ایڈریس :

ای میل درست نہیں ہےاپنا ای میل درج کریں

شرح کتاب :

اپنى رائے يهاں پر ٹائپ كيجئے :
 
اپنے تاثرات درج کریں آپ کے تبصرے کے لئے ایک لفظ درج کریں آپ اپنے تبصرہ میں 1000 حروف تک استعمال کر سکتے ہیں .
باکس میں اینٹی سپیم کوڈ درج کریں:
security
سیکورٹی باکس میں ظاہر کوڈ درج کریں.سیکورٹی کوڈميں صرف ہندسےشامل ہيں اور حروف شامل نہیں ہے
ناقابل خواندگی حالت میں تصویر پر یا یہاں کلک کریں





اس کتاب کے لئے کوئی تبصرہ نہیں، یا منتظم نے ابھی تک كوئى تبصره تصدیق نہیں كيا