صفحہء اول عقائد دفاع صحابه وقت كى اهم ترين ضرورت كيوں؟
17.1 MB
Dewey
297/4/1510
دفاع صحابه وقت كى اهم ترين ... کتاب کا نام:
محمد عدنان كليانوى (مولانا) مصنف:
تالیف مترجم:
۳۱۲ ڈاؤن لوڈز: ۶۰۶۳ مشاہدات:
Sunday، 01 July 2012 تاریخ شمولیت:
Monday، 03 September 2012 آخرى اپ ڈيٹ:
۸۷ صفحات: دستياب نهيں هے كتاب كا سائز:
Urdu اصل زبان:
Source:
سوشل نیٹ ورکس کو ارسال کریں

 اهل بيت اور ديگر صحابه كرام رضى الله عنهم سے محبت و عقيدت كا تعلق ايمان كا حصه هے ۔ ايمان و اسلام كے ديگر حصص كى طرح اس حصه كا تحفظ اور دفاع بھى ضرورى هے ۔ اس وقت صحابه كرام سے عقيدت و محبت تو كجا ( نعوذ بالله ) ان پر سب و شتم روا ركھا جا رها هے ۔ان حالات ميں اس دفاع كى فرضيت مزيد مؤكد هو جاتى هے ۔ اسى فريضه كے پيش نظر زير نظر رساله ترتيب ديا گيا هے جسميں مؤلف نے عام فهم پيرايه ميں دفاع صحابه كى ضرورت و اهميت كو واضح كيا هے ۔ جس ميں ايك طرف غيروں كو دعوت حق دى گئى هے ۔ تو دوسرى طرف اپنوں كو بھى مداهنت كى چادر اتار پھينكنے كى ترغيب دى گئى هے ۔
كتاب كو چار ابواب ميں تقسيم كرتے هوئے مؤلف نے پهلے باب ميں مقام صحابه قرآن و حديث كى روشنى ميں بيان كى هے ۔ دوسرے باب ميں دفاع صحابه كيوں ضرورى هے كے عنوان پر آٹھ نقلى و عقلى دلائل ديئے ۔ تيسرے باب ميں دفاع صحابه كى چند تحريكوں اور ان علماء كا مختصر سوانحى خاكه پيش كيا هے اور چوتھے اور آخرى باب ميں صحابه كے مناقب ميں چاليس احاديث ذكر كرتے هوئے رساله كا اختتام كيا۔

  • فى الوقت اس كتاب كى فهرست دستياب نهيں هے.
اس كتاب كے بارے ميں كوئى نوٹ نهيں هے
  • يه كتاب فى الوقت ديگر زبانوں ميں دستياب نهيں هے.
اس کتاب کے بارے میں آپکى رائے

آپ کا نام :

براہ مہربانی اپنا نام یا لقب لکھيں اپنے نام کے لئے ایک لفظ درج کریں اپنا نام کے لئے 60 حروف تک استعمال کر سکتے ہیں

ای میل ایڈریس :

ای میل درست نہیں ہےاپنا ای میل درج کریں

شرح کتاب :

اپنى رائے يهاں پر ٹائپ كيجئے :
 
اپنے تاثرات درج کریں آپ کے تبصرے کے لئے ایک لفظ درج کریں آپ اپنے تبصرہ میں 1000 حروف تک استعمال کر سکتے ہیں .
باکس میں اینٹی سپیم کوڈ درج کریں:
security
سیکورٹی باکس میں ظاہر کوڈ درج کریں.سیکورٹی کوڈميں صرف ہندسےشامل ہيں اور حروف شامل نہیں ہے
ناقابل خواندگی حالت میں تصویر پر یا یہاں کلک کریں





اس کتاب کے لئے کوئی تبصرہ نہیں، یا منتظم نے ابھی تک كوئى تبصره تصدیق نہیں كيا